بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ سالوں کا صدقہ فطر کس اعتبار سے ادا کیا جائے؟


سوال

1995 سے 2010  تک فطرہ کی رقم کیا تھی؟

جواب

اگر آپ گزشتہ سالوں کے فطرے کی رقم اس لیے معلوم کررہے ہیں کہ ان سالوں کے فطرے کی ادائیگی نہیں کی اور اب کرنا چاہ رہے ہیں توصدقہ فطر کی ادائیگی میں آج کی قیمت کا اعتبار ہوگا، گزشتہ سالوں کی قیمت کا لحاظ نہیں ہوگا۔لہذا آپ اس  سال  کی رقم کے اعتبار سے گزشتہ سالوں کا فطرہ اداکریں۔

الدر المختار مع رد المحتار (2/ 285):

"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح".

الفتاوى الهندية (1/ 192):

"وإن أخروها عن يوم الفطر لم تسقط، وكان عليهم إخراجها، كذا في الهداية". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200324

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے