بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

گاڑی قسط پر خریدنا


سوال

ایک گاڑی کی موجودہ قیمت 50 سے 51 لاکھ ہے، گاڑی کا مالک اس بات پر راضی ہے کہ  اگر اُس کو 20 لاکھ  روپے یک مشت ادا کر گاڑی لے لو،  پھر 3 سال تک ہر ماہ 60 ہزار روپے ادا کرو 3 سال بعد 13 لاکھ یک مشت ادا کر کے گاڑی کے کاغذات لے لو اس طرح گاڑی کی کل رقم 54 لاکھ بنی۔کیا یہ سودا ٹھیک ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر  مذکورہ سودا کرتے وقت گاڑی  کے مالک(فروخت کنندہ ) نے اِس قسم کی کوئی شرط نہ لگائی ہو کہ بروقت قسطیں ادانہ کرنے یا تاخیر کرنے کی صورت میں مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت لوں گا ،تو شرعاًیہ سودا درست ہے، لیکن اگر بوقتِ سودا  قسطوں  میں تاخیر کی بنا پر قیمت میں اضافہ (یعنی جرمانہ )کی شرط لگائی  گئی ہو تو ایسی صورت میں  یہ سودا جائز نہیں ہوگا ۔

وفي سنن الترمذي  لمحمد بن عيسى بن سَوْرة الترمذي:

"عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة». وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح»، والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولايفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما ... وهذا يفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولايدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته..." (أبواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن بیعتین في بیعة، ج:۳،ص:۵۲۵،رقم: ۱۲۳۱،ط: مصطفى البابي الحلبي – مصر)

و في المبسو ط للسرخسي:

"وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد ... الخ" (کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج:۱۳، ص:۸، ط:دارالمعرفة) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے