بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گانے کی دھن گنگنانا


سوال

گانے کی دھن گنگنانا بغیر الفاظ کے،  کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے کو دل میں نفاق کی افزائش کا سبب قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے موسیقی شرعاً حرام ہے، رہی بات گانے کی دھن کی تو یہ گانا سننے کو مستلزم ہے، نیز مسلمان کی شان یہ ہے کہ اس کی زبان لمحہ با لمحہ اللہ کے ذکر سے تر بتر رہے، جیساکہ سننِ ترمذی کی روایت میں ہے کہ ایک صحابی نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کوئی ایسا عمل بتلا دیں کہ میں اس پر مضبوطی سے کاربند ہوجاؤں، تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہر وقت تر رہے۔

"٣٣٧٥ - حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، قَالَ: «لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ». «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»". (سنن الترمذي، بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ، رقم الحديث، ٣٣٧٥، ٥ / ٤٥٧)

لہذا صورتِ مسئولہ میں ہر لمحہ اللہ کے ذکر سے اپنی زبان کو معطر رکھنا چاہیے، اور اگر کسی وقت گنگنا نے کا دل چاہے تو  قرآنِ مجید کی جو آیات یاد ہوں وہ یا حمدیہ و نعتیہ اشعار گنگنا لیے جائیں۔

صحیح البخاری میں ہے:

"٥٠٢٤ - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَا أَذِنَ اللهُ لِشَىْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِىِّ أَنْ  يَتَغَنَّى  بِالْقُرْآنِ". (١٩ - بابٌ: «مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالقُرْآنِ)

فيض الباري علی صحيح البخاري:

"(قوله:مَنْ لم يتغنَّ) ... إلخ. قال ابنُ الأَعرابي - إمام اللغة - في «تفسيره»: مَنْ لم يضع القرآنَ مَوْضِع غناءه ... إلخ. وتفصيله (١): أنَّ المرء إذا اعتاد بالغناء يغلب عليه ولايستطيعُ أن يتركه، ولذا ترى المُغني لايزال يُدَنْدنُ في كلِّ وقت، فَعَلَّمه النبيُّ صلى الله عليه وسلّم أن الذي عليه أن يَكُفَّ عنه، ويجعل القرآنَ دندنته وغناءه، حتى يأخذَ القرآنُ مأخَذَه، ويغلب عليه كغلبته، ويجلو به أحزانه وهمومه، كجلائه منه، فهو على حَدِّ". (١٩ - بابٌ: مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالقُرْآنِ، ٥/ ٤٨٤، رقم الحديث: ٥٠٢٤) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200658

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے