بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

کیمائی سونے کو اصل سونا بتاکر فروخت کرنا


سوال

کیمیائی عمل سے تیار  ہونے والے سونے کو سونا بتا کر بیچنا کیسا ہے؟

جواب

سونا  قدرتی معدنیات میں سے ہے،  لہذا سونے کے  زیورات وغیرہ بناتے وقت ا س کی مضبوطی کے لیے اس کے ساتھ کسی دھات کو معمولی مقدار میں شامل کرنا جو عرف میں رائج ہو، یہ شرعاً درست ہے۔
لیکن مختلف دھاتوں کو ملا کربذریعہ  کیمیکل سونے کی شکل دینا یاچاندی،   تانبا  وغیرہ مختلف دھاتوں پر سونے کا پانی (یالہر) چڑھاکر انہیں سونا بتاکر  فروخت کرنادھوکا دہی اور شرعاً ناجائز ہے۔

واضح رہے کہ ہمارے بلاد میں آج کل عموماً مختلف دھاتوں کو ملاکر کیمیکل کے ذریعے سونے کی شکل دینے کو کیمیائی سونا بنانا کہا جاتاہے، مذکورہ حکم اسی کے مطابق ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے