بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی جائز کام کرنے پرہدیہ لینا جائز ہے؟


سوال

کیا کسی جائز کام کرنے پرہدیہ لینا جائز ہے?

جواب

اگر کوئی شخص کسی کا کوئی جائز  کام کردے اور اس پر  وہ خوشی سے اسے کوئی ہدیہ پیش کرے تو ایسا ہدیہ لینا جائز ہے، لیکن اگر وہ کام اس شخص کا فرضِ منصبی ہو، (مثلاً وہ ملازم ہو، اور اس کے ذمے وہ کام کرنا ہو) اور وہ ہدیہ لیے بغیر نہ کرتاہو (خواہ ہدیہ مشروط ہو، یا عرف ہو کہ ہدیہ دیے بغیر کام نہیں ہوگا) تو یہ ہدیہ نہیں بلکہ رشوت کہلائے گا، جس کی لین دین شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے