بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کیا کار بک کرنے کے بعد آگے فروخت کر سکتے ہیں؟


سوال

میں نے ایک کار سوزوکی کمپنی سے ایک ڈیلر کے زیرِ اہتمام بک کروائی. کار سوزوکی کمپنی نے میرے نام ک رسید پر ڈیلر کو دے دی. کیا میں یہ کار کسی اور کو فروخت کر سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب تک مذکورہ کار آپ کے ہاتھ  یعنی  قبضہ میں نہیں آجاتی اس وقت تک اسے فروخت کرنے کی اجازت نہیں، البتہ قبضہ میں آنے کے بعد فروخت کر سکتے ہیں، جیساکہ مسند احمد میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک سامان خریدنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ تاجر  اسے اپنی حفاظت میں نہ لے لے۔

"زيد بن ثابت أن النبي صلى الله عليه وسلم: نهى أن تباع السلع حيث تبتاع حتى يحوزها التجار إلى رحالهم. رواه أحمد".

سنن بیہقی میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں خرید و فروخت کرتا رہتا ہوں، اس میں سے میرے  لیے کیا حلال اور کیا حرام ہے؟  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بھتیجے! تم کوئی چیز فروخت نہ کرو جب تک کہ  اس پر قبضہ نہ کرلو۔

"حديث حكيم بن حزام عند البيهقي بسند جيد؛ قلت: يا رسول الله إني أبتاع هذه البيوع، فما يحل لي منها وما يحرم؟ قال: يا ابن أخي لاتبع شيئًا حتى تقبضه". ( البيهقي، البيوع، باب النهي عن بيع ما لم يقبض، رقم: 10731) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200087

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے