بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا سعودی عرب والے بیس رکعت تراویح گھر میں پڑھ سکتے ہیں؟


سوال

 ہم یہاں سعودی عرب میں رہتے ہیں،  یہاں مسجدوں میں آٹھ رکعات تراویح پڑھی جاتی ہے،  تو  ہم کچھ ساتھی اپنے گھر میں بیس رکعات تراویح پڑھ لیں ؟  مسجد ہمارے گھر کے ساتھ ہے اور اس میں قراءت لاؤڈ اسپیکر میں پڑھی جاتی ہے تو کیا ہم اپنے گھر میں تراویح پڑھ سکتے ہیں با جماعت؟

جواب

اگر آپ لوگ اپنی  بیس تراویح گھر میں پڑھنا چاہتے ہیں تو پڑھ سکتے ہیں، لیکن عشاء کی نماز مسجد ہی میں ادا کریں، نیز ملحوظ رہے کہ تراویح میں دو چیزیں سنت ہیں:

 1. پورا مہینہ تراویح پڑھنا۔

2. تراویح میں قرآن پاک کی تکمیل کرنا۔

لہذا گھر میں تراویح با جماعت پڑھنے  کی صورت میں تکمیلِ قرآن کی سنت کا بھی اہتمام کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200710

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے