بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1442ھ- 29 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا تکبیر تحریمہ سے قبل اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا چاہیے؟


سوال

نماز کی نیت کرنے کے بعد جب ہم نماز کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں اللہ اکبر کے لیےاس سے پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا شرعی اصطلاح میں کیسا ہے؟

جواب

نماز میں اعوذ باللہ اور  بسم اللہ کا محل تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثناء پڑھنے کے بعد سورہ فاتحہ شروع کرنے سے پہلے ہے، تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے اعوذ باللہ و بسم اللہ پڑھنا ثابت نہیں، لہذا تکبیرِ تحریمہ سے پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا درست نہیں ہے، اسے سنت کے مطابق اصل محل  پر (پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کی تلاوت سے پہلے) پڑھنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں