بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا رضاعی باپ کی دوسری بیوی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟


سوال

کیارضاعی باپ کی دوسری بیوی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رضاعی باپ کے  تمام اصول و فروع رضیع پر حرام ہوتے ہیں اور رضاعی باپ کی دوسری بیوی کی بیٹی (جو رضاعی باپ سے ہو، وہ) بھی اسی رضاعی باپ کے فروع میں داخل ہے؛ اس لیے رضاعی باپ کی دوسری بیوی سے پیدا شدہ  بیٹی سے بھی  نکاح کرنا جائز نہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 343):
"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعاً أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200727

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے