بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

کورٹ کی خلع کی شرعی حیثیت


سوال

کورٹ کی خلع کا کیا حکم ہے? 

جواب

خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس کے لیے جانبین یعنی میاں بیوی کی رضا مندی ضروری ہے، اگر عدالت شوہر کی رضامندی(خواہ زبانی یا تحریری) کے ساتھ  خلع کا فیصلہ کرتی ہے تو شرعاً خلع معتبر ہے اور اگر  شوہر کی رضا مندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دے دیا ہے تو شرعاً یہ خلع معتبر نہیں ہوتا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول". (كتاب الطلاق، باب الخلع 3/441، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے