بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1442ھ- 26 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کورٹ میرج کے بعد شادی کے موقع پر نکاح کی تجدید کرنا


سوال

میں نے کورٹ میرج کرلی ہے، اور گھر والوں کو نہیں بتایا، اب میں نے جیسے تیسے کرکے انہیں شادی کے لیے راضی کرلیا، لیکن ان کو نہیں پتا کہ میرا نکاح ہوچکا ہے، اب اگر وہ شادی میں دوبارہ میرا نکاح پڑھائیں گے تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ کورٹ میرج میں کیا گیا نکاح اگر عاقدین اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں کیا گیا تھا تو وہ منعقد ہوگیا تھا، اب گھر والوں کے علم میں لاکر دوبارہ اعلانیہ نکاح پڑھوانا جائز ہے، یہ نکاح پر نکاح کی ممنوعہ صورت میں داخل نہیں ہے۔ تاہم سائل کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے گھر والوں کو اس جگہ نکاح پر راضی کرتا، کورٹ میرج یا کسی بھی طرح خفیہ نکاح کرنا اسلامی تہذیب و اخلاق سے متصادم اور قابلِ حوصلہ شکنی ہے۔

در مختار میں ہے:

"(وينعقد) ... (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر". (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 9، ط: سعيد)

ہدایہ میں ہے:

"(ولاينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أرو رجل وامرأتين ..." الخ (كتاب النكاح، ج: 2، ص: 306، ط: رحمانيه)

در مختار میں ہے:

"وفي الكافي: جدد النكاح بزيادة ألف لزمه ألفان على الظاهر وفي الشامي: حاصل عبارة الكافي: تزوجها في السر بألف ثم في العلانية بألفين ظاهر المنصوص في الأصل أنه يلزم الألفان ويكون زيادة في المهر، وعند أبي يوسف المهر هو الأول لأن العقد الثاني لغو. فيلغو ما فيه. وعند الإمام أن الثاني وإن لغا لايلغو ما فيه من الزيادة". (كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في أحكام المتعة، ج: 3، ص: 112، ط: سعيد)  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں