بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کورونا وائرس میں مسجد جائیں یا نہیں؟


سوال

کورونا وائرس میں مسجد جائیں یا نہیں؟  ہر طرف اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور لوگوں کے جمع ہونے کو روکا جا رہا ہے, ان حالات میں مسجد جائیں یا نہیں?

جواب

                        شریعتِ مطہرہ میں مسجد میں باجماعت نماز نہ پڑھنے کا ایک عذر یہ بھی ہے کہ آدمی ایسی حالت میں ہو جس سے انسانوں کو یا فرشتوں کو اس سے اذیت ہو، اسی وجہ سے جس نے نماز سے پہلے بدبودار چیز کھالی ہو تو اسے اس حالت میں مسجد میں نہیں آنا چاہیے، بلکہ بدبو زائل کرکے مسجد میں آنا چاہیے۔ فقہاءِ کرام نے ایسے مریض کو بھی اس میں شمار کیا ہے جس سے لوگوں کو طبعی طور پر کراہت و نفرت ہوتی ہو، جیسے جذامی۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یقینی طور پر کرونا وائرس کے شکار مریض کو بھی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کے سلسلے میں معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ البتہ جو شخص صحت مند ہو اور محض اندیشے کی وجہ سے مسجد نہ جائے، یا جس کے بارے میں صرف شک یا وہم ہو، ایسے شخص کو نماز باجماعت کے لیے مسجد میں بھی جانا چاہیے، اور لوگوں کو بھی ایسے افراد سے توہم کی حد تک دور نہیں رہنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے سب بیماریاں اور پریشانیاں ختم ہوتی ہیں، یہ وقت اللہ رب العزت کے حضور  رو رو کر اسے منانے کا ہے، نہ کہ اس کے در سے دور بھاگنے کا۔

کفایت المفتی میں ہے :

"۔۔۔ان صورتوں  میں خود مجذوم پر لازم ہے کہ وہ مسجد میں نہ جائے اور جماعت میں شریک نہ ہو اور اگر وہ نہ مانے تو لوگوں کو حق ہے کہ وہ اسے دخول مسجد اور شرکت جماعت سے روک دیں اور اس میں مسجد محلہ اور مسجد غیر محلہ کا فرق نہیں ہے، محلہ کی مسجد سے بھی روکا جاسکتا ہے تو غیر محلہ کی مسجد سے بالاولی روکنا جائز ہے اور یہ روکنا بیماری کے متعدی ہونے کے اعتقاد پر مبنی نہیں ہے، بلکہ تعدیہ کی شرعاً کوئی حقیقت نہیں ہے، بلکہ نمازیوں کی ایذا یا خوف تلویث مسجد یا تنجیس وباء نفرت و فروش پر مبنی ہے"۔ (ج۳ / ص ۱۳۸، دار الاشاعت)

                              لہٰذا جس محلہ میں کرونا وائرس کی وبا  عام نہ ہو تو کرونا وائرس کے ڈر سے جماعت کی نماز ترک کردینا شرعی عذر نہیں ہے، بلکہ توہم پرستی ہے جو کہ ممنوع ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري(6 / 146):

"وكذلك ألحق بذلك بعضهم من بفيه بخر، أو به جرح له رائحة، وكذلك القصاب والسماك والمجذوم والأبرص أولى بالإلحاق، وصرح بالمجذوم ابن بطال، ونقل عن سحنون: لاأرى الجمعة عليه، واحتج بالحديث. وألحق بالحديث: كل من آذى الناس بلسانه في المسجد، وبه أفتى ابن عمر، رضي الله تعالى عنهما، وهو أصل في نفي كل ما يتأذى به".

                            اور جس محلہ میں کرونا وائرس کی وبا عام ہوجائے تو اس محلہ کے لوگوں کے لیے مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی رخصت تو ہوگی، البتہ اس محلے کے چند لوگوں کو پھر بھی مسجد میں باجماعت نمازوں کا اہتمام کرنا ہوگا  اور اگر مسجد میں باجماعت نماز پورے محلے والوں نے ترک کردی تو پورا محلہ گناہ گار ہوگا؛ کیوں کہ مسجد کو اس کے اعمال سے آباد رکھنا فرضِ کفایہ ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية(37 / 195):

"بناء المساجد وعمارتها ووظائفها يجب بناء المساجد في الأمصار والقرى والمحال - جمع محلة - ونحوها حسب الحاجة وهو من فروض الكفاية".فقط واللہ اعلم

ا س سلسلہ میں ہمارے دارالافتاء سے ایک تفصیلی فتوی شائع ہوچکا ہے جو مندرجہ ذیل لنک پر موجود ہے:

کرونا وائرس اور باجماعت نمازوں پر پابندی!

نیز ان حالات میں راہ نمائی کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:
کرونا وائرس اور دیگر وبائی امراض میں مسلمانوں کے لیے راہ نمائی

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200857

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں