بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کوئی چیز نقد خرید کر اضافی رقم کے ساتھ ادھار پر بیچنا


سوال

قسطوں پر کوئی چیز لینا اور دینا کیسا ہے؟ یعنی میں نے نقد موبائل فون لیا ہے اور اس کو قسطوں پر اضافی رقم کی صورت میں دیا ہے، اس حوالے سے کیا حکم ہے شریعت میں؟ ہمیں اس طرح کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب

آپ کا نقد موبائل فون خریدنا الگ معاملہ ہے، اور پھر کسی اور فرد کو موبائل فون قسطوں پر دینا الگ معاملہ ہے،  جس میں آپ اضافی رقم کے ساتھ قیمت طے کر سکتے ہیں لہذا مذکورہ معاملہ جائز ہے۔ البتہ قسطوں کی صورت میں بیع کے لیے ضروری ہے کہ مجموعی قیمت ابتدا میں ہی متعین کی جائے اور پھر جلدی یا تاخیر سے قیمت کی ادائیگی کی بنیاد پر قیمت میں کمی بیشی نہ کی جائے۔

"قال: ولو اشترى نسيئةً لم يبعه مرابحةً حتى يبين؛ لأن الأجل نسبه كونه مبيعاً، فإنه يزاد في الثمن لأجل الأجل". (المحيط البرهاني في الفقه النعماني فقه الإمام أبي حنيفة رضي الله عنه، المؤلف: أبو المعالي برهان الدين محمود بن أحمد بن عبد العزيز بن عمر بن مَازَةَ البخاري الحنفي (المتوفى: 616هـ)، المحقق: عبد الكريم سامي الجندي، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان، كتاب البيع، الفصل الخامس عشر: في بيع المرابحة والتولية والوضعية، ۷/۶) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے