بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

کوئی چیز فروخت کرتے ہوئے نفع رکھنے کی شرعی حد


سوال

میں نے ایک چیز  تین ہزار میں خریدی ہے، اور اب میں اس کو ایک لاکھ میں فروخت کرنا چاہتا  ہوں، کیا یہ ظلم ہے یا نہیں؟ 

جواب

عمومی اشیاء اور عمومی حالات میں کسی چیز کو خریدنے کے بعد آگے فروخت پر نفع کی کوئی مقدار شرعاً متعین نہیں ہے۔

البتہ خوراک اور غذائی اجناس  کی اگر قلت ہو تو بحرانی حالت میں ذخیرہ اندوزی کی طرح اناج وغیرہ کو مارکیٹ ریٹ کے اوپر آدھے سے زیادہ نفع پر بیچنا جائز نہیں ہوگا، مثلاً: مارکیٹ میں جو چیز سو روپے کی ہو اسے ایک سو پچاس یا اس سے زیادہ کا بیچنا درست نہیں ہوگا، بلکہ اس حالت میں مارکیٹ ریٹ یا ہوسکے تو اس سے بھی کم نفع پر فروخت کرنے کو شریعت نے پسند کیاہے۔ حدیثِ مبارک کا مفہوم ہے: بدترین بندہ ہے ذخیرہ اندوز، اگر اللہ تعالیٰ نرخ ارزاں کردے تو غمگین ہوتا ہے، اور اگر نرخ گراں کردے تو خوش ہوجاتاہے۔ شدید غذائی بحران کی حالت میں حاکمِ وقت کو انصاف مدِّ نظر رکھتے ہوئے نرخ متعین کرنے کا بھی حق ہے۔

بہرحال  اگر غذا کا بحران نہ ہو یا ایسی اشیاء جن پر زندگی کا گزران اور مدار نہ ہو، ان کی فروخت میں نفع کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، تاہم حرص وہوس شریعت میں ایک ناپسندیدہ خلق (وصف) ہے، دنیا کی محبت اور لالچ  دل کے گناہ ہیں، اس لیے عمومی احوال میں بھی مارکیٹ ریٹ یا اس سے کسی قدر  کمی بیشی کے ساتھ اشیاء فروخت کرنی چاہییں۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143909201182

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے