بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

کوئی اپنی بیوی سے بولے کہ میں نے تم سے جماع کیا تو تمہیں ایک سو ایک طلاق


سوال

کوئی اپنی بیوی سے بولے کہ ’’اگر میں نے تم سے جماع کیا تو تمہیں ایک سو ایک (101) طلاق ہو‘‘۔ اس کا شرعی حل بتائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر اپنی بیوی سے ہم بستری کرے گا تو شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی، جس سے اس کی بیوی اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی، جس کے بعد دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً ناجائز وحرام ہوگا۔

نیز اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ ہم بستری کرے اور اسی دوران چار مہینے گزر جائیں تو اس صورت میں ایلا ہونے سے مذکورہ شخص کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اور عدت گزارنے کے بعد بیوی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اور اگر عدت کے بعد اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرے تو شوہر کے پاس دو طلاق کا حق ہوگا جو بیوی سے ہم بستری کرنے سے واقع ہوجائیں گی اور ہم بستری نہ کرنے کی صورت میں چار مہینے بعد ایلاء ہونے کی وجہ سے دوسری طلاق واقع ہوجائے گی اور اسی طرح پھر سے نکاح کرنے میں ہم بستری یا ایلاء سے تیسری طلاق بھی واقع ہوجائے گی اور بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔

نیز  ہم بستری کی صورت میں تین طلاق واقع ہونے کے بعد اگر بیوی دوسری جگہ شادی کرلے اور شادی کے بعد اگر وہ شخص (دوسرا شوہر) صحبت (جسمانی تعلق) کرنے کے بعد طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت مکمل کرکے اس عورت کے لیے اپنے سابق شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا، اور اس نکاح میں مذکورہ قسم (اگر میں نے تم سے جماع صحبت کی تو تمہیں ایک سو ایک طلاق) کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وشرعاً الحلف إلخ) يشمل التعليق بما يشق فإنه يسمى يمينًا كما قدمناه في باب التعليق، ولهذا قال في الفتح: وفي الشرع: هو اليمين على ترك قربان الزوجة أربعة أشهر فصاعدًا بالله تعالى، أو بتعليق ما يستشقه على القربان". (ج:3، ص: 422، باب الإيلاء، ط: سعيد)

فتاویٰ ہندیہمیں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقًا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ..." (ج:1، ص: 420، فصل في تعليق الطلاق، ط: دار الفكر بيروت) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012200884

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں