بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کی طرف سے ملازمین کو انشورنس کی سہولت دینا


سوال

ہماری کمپنی نے ایک انشورنس کمپنی سے رابطہ قائم کیاہے،جس کے تحت کمپنی کے تمام ملازمین کو میڈیکل کی سہولت مل رہی ہے،انشورنس کمپنی نے تمام ملازمین کے لیے ایک کارڈ جاری کیاہے جس پرسالانہ رقم درج ہے جو ملازمین کی پوسٹ کے لحاظ سے الگ الگ ہے،واضح رہے کہ اس سلسلے میں ملازمین کی تنخواہوں سے کوئی کٹوتی نہیں کی جاتی بلکہ کمپنی کے ڈائریکٹرنے یہ اعلان کیاتھاکہ یہ کمپنی کی طرف سے ایک محرک اورسہولت ہے اپنے ملازمین کے لیے۔

کیاہمارے لیے اس پالیسی کالیناجائزہے یانہیں؟

 

جواب

آپ کی طرف سے دیئے گیے لنک نہیں کھل سکے۔

انشورنس کامروجہ طریقہ کارشرعاً ناجائزوحرام ہے،اس لیے کہ وہ اپنی اصل وضع کے اعتبارسے  یاتوقمار(جوا)ہے اوراگرکل رقم مع منافع کے حاصل ہوتوربوا(سود)ہے۔جوااورسودکی حرمت قرآن وحدیث سے ثابت ہےاورجولوگ جوایاسودی لین دین میں ملوث ہیں ان سے متعلق قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں ذکر کی گئی ہیں۔لہذا کمپنی کی طرف سے کسی ادارہ سے اپنےملازمین کے لیے انشورنس معاہدہ شرعاً درست نہیں۔ملازمین اس صورت میں صرف اسی قدرفائدہ اورمیڈیکل وغیرہ کی سہولت اٹھاسکتے ہیں جس قدرکمپنی نے اپنے ملازم کے لیے انشورنس کی مدمیں رقم جمع کروائی ہے۔اس سے زائد فائدہ اٹھاناجائزنہیں ہوگا۔بقدررقم اس پالیسی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143609200045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے