بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کفن ودفن کے مالی انتظام کے لیے قائم کیے جانے والے فنڈ کی شرعی حیثیت


سوال

آج کل مختلف علاقوں میں تکفین و تدفین میں مالی سہولت بہم پہنچانے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت لوگ انجمن بناتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر کسی شخص کی میت پر جمع شدہ رقم سے زیادہ رقم لگ جائے اور پھر وہ اس انجمن سے نکلنا چاہے تو کیا وہ زیادہ زائد رقم واپس کرے گا؟ اور اس فنڈ میں یہ شرط ہوتی ہے کہ جو اس فنڈ میں پیسے جمع کرائے گا وہ ہی اس سے مستفید ہو سکے گا؟ اور اس شخص جس نے اس فنڈ میں رقم جمع کروا کر شمولیت اختیار نہیں کی ہے وہ اس فنڈ سے استفادہ حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ کیا یہ شرط صحیح ہے۔

جواب

جس انجمن کا تذکرہ سوال میں مذکور ہے، اس سے استفادے اور اس سے نکلنے کے طریق کار سے یہ معلوم ہوتا ہے، اس انجمن میں شرکت کرنے والوں کی طرف سے اس فنڈ میں جمع کی جانے والی رقم قرض کے طور پر جمع کروائی جاتی ہے جو  کفن دفن میں مالی ضرورت پڑنے پر اس معاہدے میں شریک افراد باہمی معاہدے کے مطابق استعمال کر سکیں گے۔ جب یہ رقم قرض کے طور پر جمع کروائی گئی ہے تب جمع شدہ رقم سے زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں زائد رقم واپس کرنے کی شرط بھی درست ہے اور صرف فنڈ کے شرکا ہی کے اس فنڈ سے فائدہ اٹھانے کی شرط بھی درست ہے۔


فتوی نمبر : 143704200028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے