بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا کشمیر کا جہاد شرعی جھاد ہے؟


سوال

کیا جہادِ کشمیر شرعی جہاد ہے؟

جواب

 کشمیر  کے سیاسی و عسکری اَحوال سے واقف کار علماء اور واقفانِ اَحوال، شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں مسلح تصادم میں مسلمانوں کی کار روائی کو جہاد قرار دیں تو وہ یقیناً  جہادِ شرعی ہے، بالخصوص کشمیر  پر مسلط غیر مسلم طاقتوں کے خلاف ان کے انسداد یا انخلا  کے لیے جذبہ ایمان، اعلاءِ  کلمۃ اللہ اور استخلاصِ وطن کی غرض سے مسلح جد و جہد ایسے ہی جہاد ہے، جیسے ہندوستان سے برطانوی سامراج اور خود افغانستان سے روسی افواج کے انخلا  کے لیے کی جانے والی کوششیں جہاد تھیں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے