بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی کے لیے تعلیمی مقالہ لکھ کر اجرت لینا


سوال

 کسی شخص کے لیے تعلیمی مقالہ لکھنا اور اس پر اجرت لیناکیساہے؟

جواب

تعلیمی خدمات فراہم کرنے پر اجرت لینا فی نفسہ جائز ہے، البتہ  کسی اور سے مقالہ لکھوا کر اپنے نام سے جمع کروانا اور اس مقالہ  کی بنیاد پر ڈگری حاصل کرنا سرقہ علمی کے ساتھ ساتھ دھوکا دہی کے زمرے میں داخل ہے، جس سے اجتناب کرنا لازم ہے اور ایسے افراد کے لیے جانتے بوجھتے  مکمل مقالہ تیار کرکے دینے اور اس پر اجرت لینے  کی  شرعاً اجازت نہ ہوگی۔ جزوی معاونت،حوالہ جات کی فراہمی یا کمپوزنگ و سیٹنگ میں تعاون اس میں داخل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200910

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے