بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی موقع پر جھوٹ بولنا


سوال

کیا کسی موقع پر جھوٹ  بولا جا سکتا ہے؟

جواب

جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، قرآنِ کریم میں ہے:

﴿إِنَّ الله َ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِف كَذَّاب﴾

ترجمہ: اللہ تعالی ایسے شخص کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو (اپنی) حد سے گزرجانے والا،  بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔ (بیان القرآن)

 نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

"آية المنافق ثلاث وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان". ( الصحيح لمسلم)

 ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگر چہ وہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے: ایک یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے، دوسرے یہ کہ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،  تیسرے یہ کہ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ کو مسلمان کی شان کے خلاف بتا یا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

"وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب))". (مسند أحمد)

ترجمہ: مؤمن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔

لہٰذا جھوٹ سے بچنا اور سچ کو لازم پکڑنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ نے ضرورت کے مواقع پر "توریہ" اور "تعریض"  کی گنجائش دی ہے جہاں سچ بول کر مقصود حاصل کرنا ممکن نہ ہو، ایسے مواقع پر صریح جھوٹ نہ بولا جائے ، بلکہ ذو معنٰی بات کی جائے، مثلاً جان جانے کا خطرہ ہو تو "توریہ" اختیار کرکے جان بچالی جائے، دو فریقوں میں صلح کرانے کی غرض سے "توریہ" کیا جاسکتاہے، نیز  ایک فریق کے سامنے دوسرے کی خلافِ حقیقت تعریف وغیرہ کردی جائے (مثلاً یہ کہہ دے کہ آپ کا فریقِ مخالف تو آپ کے بارے میں اچھے جذبات رکھتاہے، یا مثلاً وہ تو آپ سے ملاقات چاہتاہے وغیرہ) تو یہ جھوٹ شمار نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں