بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جس پر قربانی لازمی نہیں اس کی طرف سے کسی کے قربانی کرنے کا حکم


سوال

کسی شخص پر قربانی لازمی نہیں، اس کی طرف سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو اس کی طرف سے یہ واجب ہوگی یا نفل ہی رہے گی ؟ اور اس صورت میں گوشت کی تقسیم کی کیا صورت ہوگی؟ وزن کرنا لازمی ہوگا ؟

جواب

اگر کسی شخص پر قربانی لازمی نہیں، اس کی طرف سے کوئی قربانی کرنا چاہے یعنی اپنے مال سے جانور خرید کر اس کو ثواب پہنچانا چاہے تو   اس کی جانب سے یہ قربانی نفل ہوگی اور اس کا گوشت اسی قربانی کرنے والے کی ملکیت ہوگا جیسے چاہے اس کو استعمال کرسکتا ہے۔وزن کرکے اس کو پہنچانا ضروری نہیں۔

اور اگر یہ جانور خرید کر اس شخص کو ہدیۃً دےدے کہ آپ یہ قربان کرلیں تو اس صورت میں قربانی نفل ہی ہوگی، لیکن گوشت اس کی ملکیت ہوگا جس کی طرف سے قربانی ادا کی گئی ہے، وہ اپنی مرضی سے اسے استعمال کرسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201803

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں