بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کرنٹ اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن پر بینک کی طرف سے انعام


سوال

 کینیڈا میں ایک بینک نے یہ اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی کسٹمر دو ٹڑانزیکشن کرے گا تو اس کو تین سو ڈالر دیے جائیں گے، کیا سائل کے لیے یہ رقم لینا جائز ہے ؟ ملحوظ رہے کہ سائل کا مذکورہ بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ ہے، اور یاد رہے کہ بینک کا یہ اقدام کسٹمر میں اضافے کی غرض سے ہے!

جواب

کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم کے علاوہ دیگر نفع وصول کرنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ نفع قرض کی وجہ سے ہے اور قرض کی وجہ سے حاصل ہونے والا نفع سود ہے جو کہ حرام اور جانائز ہے،  مزید یہ کہ بینک کے تحائف حلال مال سے نہیں ہوتے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):
"وفي الأشباه كلّ قرض جرّ نفعًا حرام".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200853

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے