بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کرایہ کے مکان کی زکاۃ


سوال

زکاۃسے متعلق پوچھنا تھا، میرے پاس 2 گھر اور ایک دکان سے کرایہ آتا ہے ،سال بعد زکاۃ کس طرح اور کس حساب سے دینی ہے؟ کیا ٹوٹل سال کے کرایہ پر ڈھائی فیصد دینا ہے؟ اور سونا بیوی اور والدہ کے پاس ہے، اس کی زکاۃ میرے ذمہ ہے یا وہ دیں گے ؟ برائے مہربانی تفصیل سے جواب عنایت فرما دیں!

جواب

زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر جتنی رقم موجود ہو  اس کا ڈھائی فیصد دینا واجب ہے، نہ کہ پورے سال کے کرایہ کا۔

 نیز اگر سونا آپ کی بیوی اور  والدہ کی ملکیت میں ہے تو اس کی زکاۃ کی ادائیگی ان کے ذمہ ہے، البتہ اگر ان کی اجازت سے آپ ادا کردیں تو ادا ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200813

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں