بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

کرایہ کے دکان و مکان پر زکاۃ


سوال

میں صاحبِ نصاب ہوں، ہر سال زکات ادا کرتا ہوں جیولری،کیش،وغیرہ پر ،میرے پاس ہر ماہ دکان اور مکان کا کرایہ ملتاہے، اس رقم پر زکاۃ لگے گی یا نہیں؟ لگے گی تو کس طرح حکم ہے؟

جواب

دکان اور مکان کا جو کرایہ ماہانہ حاصل ہوتا ہے، اس کی جتنی رقم  زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر محفوظ ہو، بقیہ نصاب کی زکاۃ کی ادائیگی کے وقت کرایہ  کی مد میں حاصل ہونے والی اس رقم کو بھی شامل کرکے زکاۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے