بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر چلنے والی گاڑیوں پر زکاۃ کا حکم


سوال

میرے پاس دو سوزکی (گاڑی) ہیں،  جن کی کمائی سے میں اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہوں،  کیا ان گاڑیوں کی کمائی پر یا ان گاڑیوں پر زکاۃ  دینا واجب ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ دونوں گاڑیوں کی ویلیو پر زکاۃ واجب نہیں، اسی طرح ان سے  حاصل ہونے والی آمدنی جو سال بھر ضروریات میں خرچ ہوجاتی ہو اس پر بھی زکاۃ نہیں، البتہ آمدنی میں سے جتنی رقم محفوظ رہتی ہو اگر وہ نصابِ زکاۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت)  کے مساوی یا اس سے زائد ہو، یا اگر  سائل پہلے سے صاحبِ  نصاب ہو تو اس صورت میں محفوظ رہنے والی رقم کا ڈھائی فیصد (سال پورا ہونے پر) بطورِ زکاۃ ادا کرنا آپ پر واجب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے