بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر دی گئی دکانوں کی زکاۃ کا حکم


سوال

میں نے 5 دکانیں فروخت کرنے کی نیت سے خریدی تھیں کہ جب ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو فروخت کر دوں گا،  لیکن اب چوں کہ حالات اس طرح کے نہیں ہیں کہ ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو؛ اس لیے اب انہیں کرائے پر چڑھا دیا ہے. سوال یہ ہے کہ اب مجھے جو  زکاۃ ادا کرنی ہے، وہ کرائے سے آنے والے پیسوں کی کرنی ہے یا دکانوں کی اصل قیمت کی؟ 

جواب

دکان اور مکان کا جو کرایہ ماہانہ حاصل ہوتا ہے، اس کی جتنی رقم  زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر محفوظ ہو، بقیہ نصاب کی زکاۃ کی ادائیگی کے وقت کرایہ  کی مد میں حاصل ہونے والی اس رقم کو بھی شامل کرکے زکاۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔لہذا آپ نے جو دکانیں کرائے پر دی ہیں ، ان دکانوں کے کرایہ سے حاصل ہونے والی رقم پرزکاۃ ادا کرنی ہوگی،آپ کی زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر جتنی رقم کرایہ کی آپ کے پاس موجود ہو  اس کا ڈھائی فیصد دینا واجب ہے۔ کرایہ پر دی گئی دکانوں کی مالیت پر زکاۃ  نہیں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے