بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جمادى الاخرى 1441ھ- 17 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

کرائے پر دیے گئے مکان پر زکاۃ کا حکم


سوال

میرے دوست نےایک مکان (پورشن) خریدا ہے کرائے پر دینے کی غرض سے، تو اس پر زکات کس طرح ادا کی جائے گی، جب کہ ابھی مکان کرائے پر نہیں دیا گیا ہے؟

جواب

کرائے پر دینے کی غرض سے خریدے گئے گھر کی مالیت پر زکاۃ نہیں ہے،البتہ کرائے کی مد میں حاصل ہونے والی رقم پر زکاۃ لازم ہوگی۔لہذا جب مکان کرائے پر دے دیاجائے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم تنہا یادیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے، تو سالانہ ڈھائی فیصد زکاۃ کی ادائیگی واجب ہوگی۔ابھی تک اگر مکان کرائے پر نہیں دیاگیا اور آپ کے دوست کی زکاۃ کی ادائیگی کا دن آگیا تو مکان کی مالیت پر زکاۃ عائد نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200267

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے