بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شوال 1441ھ- 29 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کان چھیدنے کا حکم


سوال

کیا ایک سے زیادہ کان چھدوانے سے وہ سوراخ جہنم میں جلے گا ؟ نیز کان چھیدنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

خواتین کے لیے کان چھدوانا جائز ہے، اس میں شرعاً  کوئی حرج نہیں، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی مسلمان خواتین کان چھدواتی رہیں، اور اس پر کوئی نکیر نہیں کی گئی۔  اور خواتین کے لیے زیور پہننے کی غرض سے کان میں ایک سے زیادہ چھید کروانے کی اجازت ہوگی۔

ایک سے زیادہ سوراخ کروانے  کی صورت میں اس سوراخ کا جہنم میں جلنا ثابت نہیں۔

تاہم مردوں کے لیے کان چھدوانا اور اس میں بالیاں یا ٹوپس وغیرہ پہننا شرعاً درست نہیں ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے