بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

کاروبار کے لیے دی ہوئی رقم کی زکاۃ کس کے ذمہ لازم ہے؟


سوال

 ایک آدمی نے مثلاً 40000 کسی کو  دیے کہ وہ ان سے کاروبار کرے،  اگر وہ کاروبار شروع کر دیتا ہے یا پھر وہ کاروبار شروع نہیں کرتا کافی عرصہ یوں ہی گزر جاتا ہے تو اس رقم پرجو  زکاۃ آئے گی وہ کس کے ذمہ ہو گی؟

جواب

اگر مذکورہ شخص نے یہ رقم دوسرے شخص کو مالک بنا کر نہیں دی،  بلکہ کاروبار کے لیے دی یا قرض کے طور پر دی ہے تو  اس کی  زکاۃ اس رقم کے مالک کے ذمہ لازم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201746

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے