بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 جُمادى الأولى 1441ھ- 26 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

ڈھائی تولہ سونا اور کچھ نقدی پر زکاۃ


سوال

میری اہلیہ کے پاس اڑھائی تولہ سونا موجود ہے، اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی نقدی کی مالک بنتی رہتی ہے، کیا اس صورت میں زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ لازم ہوں گے؟ اگر اہلیہ بآسانی ادا نہ کر سکے تو یہ میرے ذمہ لازم ہوں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی اہلیہ کے نقدی پیسے خرچے کے ہوتے ہیں اور وہ خرچ ہوجاتے ہیں تو صرف سونے کی وجہ سے وہ صاحبِ نصاب نہیں ہیں۔ البتہ اگر ملکیت میں ڈھائی تولہ سونا موجود ہوتے ہوئے کسی وقت ضرورت سے زائد کچھ رقم بھی ملکیت میں آگئی تو اسی وقت سے آپ کی اہلیہ صاحبِ نصاب شمار ہوں گی، پھر اگر درمیانِ سال میں کچھ رقم خرچ ہوتی ہے پھر دوبارہ آجاتی ہے، یہ سلسلہ چلتا رہتاہے اور نصاب کا سال پورا ہونے پر  بھی سونے کے ساتھ بنیادی ضرورت سے زائد نقدی موجود ہو تو دونوں کی مجموعی مالیت پر زکاۃ ادا کرنا فرض ہوگی۔ نیز صدقاتِ واجبہ (مثلاً: صدقہ فطر وغیرہ) بھی اس حالت میں اپنے موقع پر (مثلاً عید الفطر پر صدقہ فطر) واجب ہوں گے۔

اگر سال پورا ہونے پر ضرورت سے زائد رقم موجود نہ ہو تو صرف سونے پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔

اگر وہ آسانی سے ادا نہ کر سکے تو اس کی ادائیگی آپ پر لازم نہیں ہوگی، اگر یک مشت زکات ادا کرنا مشکل ہو تو آسانی کے لیے وقتاً فوقتاً زکات کے پیسوں کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200621

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے