بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

چھوڑتاہوں اور طلاق دیتا ہوں کئی بار بولنے کا حکم


سوال

تقریباً ۳ ماہ قبل میں نے ایک رشتہ دار خاتون سے خفیہ نکاح کیا۔  ۳ ہفتہ قبل جھگڑے کے دوران بہ ہوش و حواس میں نے اپنی بیوی سے فون پے کہا:’’میں تمہیں چھوڑتا ہوں‘‘۔ کوئی ایک ہفتہ بعد جب میں نے اسے کسی کے گھر جانے سے منع کیا، مگر وہ پھر بھی گئی تو  پھر میں نے فون ہی پے ایک دفعہ کہا ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘۔  اس سارا وقت وہ پاکستان میں تھی اور میں دبئی میں۔ اس کے واپس دبئی آنے کے بعد صلح ہو گئی اور ہم دونوں نے رجوع کیا اور ازدواجی تعلق قائم ہوا۔ کل پھر کسی بات پے جھگڑے کے دوران میں  نے ۳ دفعہ  غصہ میں کہا: ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘.

اب اس صورتِ حال میں معلوم یہ کرنا ہے کہ طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟  دوسرے ہم دونوں کو اپنی غلطیوں کا مکمل احساس ہو گیا،  جس کی وجہ سے لڑائی ہوئی تھی اور ہمارا پختہ ترین ارادہ ہے کہ آئندہ کبھی وہ دوبارہ نہیں  کریں گے۔ تو یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ کیا ہم دوبارہ رجوع کرکے یا نکاح کرکے میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہ سکتے ہیں؟ اگر نہیں  تو اب کیا صورتِ حال ہو سکتی ہے دوبارہ ازدواجی رشتہ قائم کرنے کی؟ باور رہے کہ ہم دونوں واقعی ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور بے حد محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئی  ہیں اور بیوی حرمتِ  مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ ہی تجدیدِ نکاح جائز ہے۔  الا یہ کہ مطلقہ اپنی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرے اور اس کے دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا دوسرا شوہر بغیر کسی شرط اور دباؤ کے ازخود طلاق دے دے اور اس کی عدت بھی گزر جائے تو آپ کے لیے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ خفیہ نکاح شریعت میں پسندیدہ نہیں ہے، نیز آپ کے بیان سے واضح ہوتاہے کہ الفاظِ طلاق کے استعمال میں آپ کا رویہ غیر محتاط ہے، لہٰذا آئندہ کے لیے طلاق کے الفاظ استعمال کرنے اور خفیہ نکاح سے اجتناب کیجیے۔

"فتاوی شامی" (3/ 299):
"فإن سرحتك كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال: " رهاكردم " أي سرحتك، يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضاً، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200769

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے