بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

چھری صاف کرنے سے پہلے دوسری مرغی ذبح کرنے کا حکم


سوال

مرغی کو جس چھری سے ذبح کیا ہے تو  اس چھری کو دھوئے بغیر دوسری مرغی کو ذبح کرنا کیسا ہے؟ ایک آدمی نے مسئلہ بتایا کہ ایک  چھری سے ایک مرغی کو ذبح کرکے چھری کو دھوکر دوسری مرغی کو ذبح کرنا چاہیے، ورنہ دوسری مرغی حلال نہیں ہے؟

جواب

بہتر یہ ہے کہ ایک چھری سے  ایک مرغی ذبح کرنے کے بعد دوسری مرغی ذبح کرنے سے پہلے اسے صاف کرلیا جا ئے، اور صاف کرنے کے  لیے دھونا ضروری نہیں ہے، صاف کپڑے سے اچھی طرح پونچھ لینا کہ خون صاف ہوجائے، یہ بھی کافی ہے، دھولینا بہترہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ایک چھری سے مرغی ذبح کرنے کے بعد اسے صاف کرنےسے پہلے دوسری مرغی ذبح کرلے تو مرغی حلال ہو گی، تاہم ایسا کرنا مکروہ ہے۔

الدر المختار  میں ہے:

"(و) حل الذبح (بكل ما أفرى الأوداج) أراد بالأوداج كل الأربعة تغليباً (وأنهر الدم) أي أساله (ولو) بنار أو (بليطة) أي قشر قصب (أو مروة) هي حجر أبيض كالسكين يذبح بها". (کتاب الذبائح ،ج:6،ص:296،ط:سعید)  فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200722

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے