بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

چشمہ پہن کر نماز ادا کرنا


سوال

چشمہ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟  مع دلائل وجزئیات جواب عنایت  فرمائیں!

جواب

چشمہ پہن کر نماز ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے، تاہم سجدہ کرتے ہوئے ناک زمین پر لگانی ہوگی، چشمہ کی وجہ سے اٹھائے رکھنے کی اجازت نہیں۔

امداد الفتاوی میں ہے:

’’نماز میں عینک لگانے کا حکم:

سوال(۳٦۱): قدیم ۱/٤۳۹- حالت نماز میں عینک لگائے رکھنا جائز ہے یا نہیں؟  تقدیرِ  ثانی کراہتِ  تنزیہی ہے یا تحریمی؟  فقہائے متقدمین میں سے کسی نے اس مسئلہ کی تصریح کی ہے یا نہیں؟  بینواتوجروا؟

الجواب : عینک لگانے کی عادت مستحدث (نئی) ہے؛ اس لیے امید نہیں کہ کسی کے کلام میں اس کی تصریح ملے،  مگر قواعد سے یہ جواب ہے کہ فی نفسہ جائز ہے،  لیکن فعلِ  عبث ہے، اور عبث نماز میں مکروہ ہے،  اس عارض کے سبب یہ فعل مکروہ ہوگا‘‘۔

  حاشیہ میں مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب تحریر کنندہ ہیں:

’’البتہ جو لوگ عینک کے عادی ہیں، یعنی بینائی کی کم زوری کی وجہ سے ’’نمبری عینک‘‘ لگاتے ہیں ؛ چوں کہ انہیں بغیر عینک کے طمانینت و سکون نہیں رہتا؛ اس  لیے ان کے  لیے یہ فعل عبث نہیں ہے، اور مکروہ نہ ہوگا۔ ۱۲ سعید احمد پالن پوری‘‘.

نیز حاشیہ میں مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب لکھتے ہیں:

’’نظر والا چشمہ اور عینک کو علی الاطلاق فعلِ عبث نہیں کہاجاسکتا؛ کیوں کہ جن لوگوں کی نگاہ کم زور ہیں،  ان کے  لیے فعلِ  عبث کہنا مشکل ہے؛ اس  لیے کہ بہت سے لوگ عینک اور چشمہ لگائے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے؛ لہٰذا حضرتِ  والا تھانوی علیہ الرحمہ نے قواعد کے پیش نظر جو حکم تحریر فرمایا ہے، وہی اصل اور وہی زیادہ صحیح ہے کہ فی نفسہ جائز ہے، ہاں البتہ اگر شوقیہ طور پر محض زینت کے  لیے عینک لگا رکھاہے، جس میں نظر کی کمی کوئی پر یشانی نہیں ہے تو اگرچہ قواعد سے فی نفسہ جائز ہے؛ لیکن اس کی وجہ سے اگر سجدہ صحیح طور پر نہیں ہوتا ہے، تو کراہت آجائے گی اور اگر سجدہ میں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے تو اس کے ساتھ نماز بلا کراہت جائز ہے۔ "وکمال السنة في السجود وضع الجبهة والأنف جمیعًا ولو وضع أحدهما إن کان من عذر لایکره". (الهندیة، کتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، قدیم زکریا ۱/۷۰، جدید زکریا ۱/۱۲۷)

"ویسجد علی أنفه وجبهته هذا هو السنة وإن وضع جبهته وحدها دون الأنف جاز وکذا لو وضع أنفه و بالجبهة عذر فإنه یجوز ولایکره". (الجوهرة النیرة، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مکتبه دار الکتاب دیوبند ۱ / ٦۳) شبیر أحمد قاسمي عفا اﷲ عنه". ( امداد الفتاوی جدید مطول حاشیہ، ٢ / ٢٦٥ - ٢٦٦، ط: زکریا بک ڈپو انڈیا) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201812

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے