بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غصب کے مال سے کاروبار کرنا


سوال

ایک آدمی نے بینک سے قرض لیا دس لاکھ ، اور چوری کرلیا، یعنی واپس نہیں کیا ، اپنے ملک میں آکر اس سے کاروبار کیا، اور رقم کافی بڑھ گئی ، اب کیا یہ حلال ہے ؟وہ دس لاکھ  واپس کرنے ہیں ؟

جواب

مذکورہ شخص بینک کو  اس کی رقم واپس کردے تواس سے حاصل کیا ہوا نفع اس کے لیے حلال ہے۔  بینک کو وقت پر واپس نہ کرنا معاہدہ کی خلاف ورزی اور گناہ تھا، نیز بینک سے قرض کا حصول چوں کہ سودی معاہدے اور سود کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہوتاہے، اس لیے سودی لین دین کے گناہ سے بھی صدقِ دل سے توبہ و استغفار ضروری ہے۔ 

مزید تفصیل کے لیے فتاویٰ بینات ،جلد چہارم ،عنوان:’’سودی اداروں کےملازمین کے پاس جمع شدہ رقم کا حکم‘‘ص:75 تا 86،مطبوعہ مکتبہ بینات ،جامعہ بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200067

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے