بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

چارلاکھ مالیت کے سونے کے زیور پر زکات، گزشتہ سالوں کی زکات کا طریقہ


سوال

میری شادی 2015  کو  ہوئی ہے۔ میرے گھر والوں نے اور میری بیوی کے گھر والوں نے سونے کے سیٹ دے تھے ۔ میری بیوی نے آج تک اس پر زکات نہیں دی ہے ۔ آپ بتا دیں ک اب تک کتنے سالوں کی زکات بنےگی اور کیسے اس کا حساب کریں؟  اور بیچ کر کریں یا جتنے بنیں اس میں سے تھوڑی تھوڑی نکال دیں،  کیوں کے 3 ، 4 سال کی زکات زیادہ بنے گی، اس وقت کے ریٹ کے  حساب سے 400000 کا گولڈ ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونے سے کم سونا ہو اور اس کے ساتھ نہ چاندی ہو اور نہ ہی کچھ نقدی ہو (اور نہ ہی شیئرز یا دیگر فنائنشیل اسٹرومنٹس ہوں) تو اس صورت میں اس سونے پر کچھ زکاۃ لازم نہ ہوگی، البتہ اگر مذکورہ سونے  کے ساتھ کچھ چاندی یا کچھ نقدی ہو تو کل کا حساب کرکے کل کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔ ڈھائی فیصد معلوم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مجموعی مالیت کو 40 پر تقسیم کردیا جائے، حاصل جواب ڈھائی فیصد ہوگا۔ بصورتِ وجوبِ زکاۃ  گزشتہ سالوں کی زکاۃ  کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہوگا کہ ہرسال کی مالیت کا حساب لگا کر اس کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کردیں، اور اگر نقدی نہ ہو تو سونے سے زکاۃ ادا کردیں، نیز زکاۃ  کی ادائیگی یک مشت ضروری نہیں، حساب لگا کر تھوڑی تھوڑی بھی ادا کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201086

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے