بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پیمپر پہنے ہوئے بچہ کا نمازی کے اوپر یا گود میں بیٹھ جانا


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے دوران بچہ آ کر اوپر بیٹھ جائے یا گود میں بچے نے پیمپر پہنا ہے آیا نماز فاسد ہو گئی یا نہیں؟

جواب

اگر نماز کی حالت میں  ایسا بچہ جو خود چل پھر سکتا ہو  اور وہ  ناپاک بدن یاکپڑوں کے ساتھ نمازی پر چڑھ جائے یا اس کی گود میں بیٹھ جائے  تو  نمازی کی نماز فاسد نہ ہوگی؛ لیکن اگر بچہ اتنا چھوٹا ہو جو خود نہیں چل سکتا ہو اور اسے کوئی اٹھاکر نماز کی حالت میں نمازی پر رکھ دے او راس بچے کے بدن یا کپڑے پر نجاست لگی ہو تو ایسی صورت میں اگر ایک رکن ادا کرلیا تو نمازی کی نماز فاسد ہوجائے گی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بچہ خود چل پھر نہیں سکتا اور اس  کے پیمپر میں کوئی ناپاکی یا گندگی بھی ہے  اور وہ نمازی کے اوپر  یا گود میں ایک رکن (تین مرتبہ تسبیح کی مقدار) کے بقدر بیٹھ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی، اور اگر بچے کے پیمپر میں کوئی ناپاکی نہیں ہے یا بچہ اتنا بڑا ہوکہ خود چل پھرسکتا ہو اور اپنے آپ پر اس کو قابو ہوتو اس کے نماز ی کے اوپر بیٹھنے سے  نماز ی کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 402):
"كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع وإلا لا.

(قوله: إن لم يستمسك) الأولى حذف "إن" وجوابها؛ لأنه تمثيل للمحمول، فحق التعبير أن يقول: كصبي عليه نجس لا يستمسك بنفسه ط (قوله: وإلا لا) أي وإن كان يستمسك بنفسه لا يمنع؛ لأن حمل النجاسة حينئذٍ ينسب إليه لا إلى المصلي ... ويؤيده ما في البحر عن الظهيرية: لو جلس على المصلي صبي ثوبه نجس وهو يستمسك بنفسه أو حمام نجس جازت صلاته؛ لأن الذي على المصلي مستعمل للنجس، فلم يصر المصلي حاملاً للنجاسة. اهـ".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200861

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں