بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کے قطروں کا مریض حج و عمرہ کیسے کرے؟


سوال

اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے نکلنے کی بیماری ہو,  لیکن وہ کبھی کبھی نکلتے ہوں تو کیا وہ حج اور عمرے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے؟  اگر کر سکتا ہے تو دوراِنِ حج و عمرہ  اگر قطرے نکل جائیں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

جواب

اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے آنے کی ایسی بیماری ہو کہ کسی ایک نماز کے مکمل وقت میں پاک اور باوضو  ہو کر اس وقت کی فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی اس عذر کے بغیر  نہ ملے، یعنی درمیان میں اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا ہو کہ ایک وقت کی فرض نماز ادا  کرسکے تو ایسا شخص شرعاً معذور کہلائے گا۔  اگر ایسا نہیں ہے یعنی قطروں کے آنے کے درمیان اتنا وقت مل جاتا ہے کہ وضو کر کے نماز پڑھ  لے اور اس دوران قطرے نہ آئیں تو ایسا شخص معذور نہیں کہلائے گا۔  پھر جو شخص  معذور ہو اس کے  لیے حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرلیا کرے اور  اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہے فرائض اور نوافل ادا کر لے، اس کے قطروں کے نکلنے سے اس کے وضو کے ٹوٹنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

لہذا مذکورہ شخص کو اگر قطروں کا مرض ایسا ہے کہ اسے کسی ایک نماز کے مکمل وقت میں اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وہ پاک اور باوضو ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکے تو وہ شرعی معذور ہوچکاہے، اب جب تک کسی نماز کا مکمل وقت قطروں کے عذر کے بغیر نہ گزر جائے وہ شرعی معذور رہے گا، اور اس کا حکم یہ ہوگا کہ جب وہ حج یا عمرہ کرنے جائے تو  وہ ہر فرض نماز کے وقت میں ایک مرتبہ وضو کرے ، اس سے  جتنے طواف کرنا چاہے کر لے، جتنی نمازیں چاہے پڑھے۔  پھر  جب دوسری نماز کا وقت داخل ہو جائے تو نیا وضو کر لے۔ 

اور اگر مریض ایسا نہیں ہے جس کو قطرے تسلسل سے آتے ہوں،  بلکہ کچھ دیر سے آتے ہوں تو ایسا شخص طواف شروع کر دے ،  پھر جب قطرے آ جائیں تو مطاف سے باہر جا کر وضو کر لے اور واپس آ  کر وہیں سے طواف شروع کر دے جہاں سے چھوڑا تھا،  البتہ اگر وضو ٹوٹنے سے پہلے دو یا تین چکر ہوئے ہیں تو وضو کے بعد از سر نو طواف کرنا افضل ہے۔

واضح رہے کہ طواف کے لیے وضو ضروری ہے، طواف کے علاوہ حج و عمرہ کے دیگر افعال کے لیے وضو ضروری نہیں ہے،  اس لیے باقی افعال میں مریض و غیر مریض کا حکم ایک جیسا ہو گا۔

"ولو خرج من الطواف إلی تجدید وضوء ثم عاد بنی لو کان ذلك بعد إتیان أکثره، …ویستحب الاستیناف في الطواف إذا کان ذلك قبل إتیان أکثره،…وصاحب العذر الدائم إذا طاف أربعة أشواط ثم خرج الوقت توضأ وبنی ولا شیٴ علیه، وکذا إذا طاف أقل منها إلا أن الإعادة حینئذ أفضل". (غنیة الناسك، قبیل باب السعي بین الصفا والمروة ص ۶۸)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے