بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کے سہو سے سجدہ کا حکم


سوال

اگر مقتدی چار رکعات والی نماز میں قعدہ اولیٰ میں التحیات کے بعد درود شریف اور دعاءِ ماثورہ پڑھ لے تو کیا اس کی نماز ہوئی یا نہیں؟

جواب

اگر مقتدی امام کی اقتدا  میں کوئی غلطی کرلے جس سے سجدہ سہو واجب ہوتاہو،  مثلاً قعدہ اولیٰ میں بھول کر درود ملالے یا دعا پڑھ لے تو اس صورت میں نہ مقتدی پر سجدہ سہولازم ہے اور نہ مقتدی کے سہو کی وجہ سے امام پر سجدہ سہولازم ہے۔مقتدی کی نماز میں نقصان ہوگا،البتہ سجدہ سہو لازم نہیں ، نماز ادا ہوجائے گی۔(کفایت المفتی 9/455)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے :

"( قوله : وسهو الإمام يوجب على المؤتم السجود ) لأن متابعة الإمام لازمة ( قوله : فإن لم يسجد الإمام لم يسجد المؤتم ) لأنه إذا سجد يصير مخالفا للإمام وما التزم الأداء إلا متابعا ( قوله : وإن سها المؤتم لم يلزم الإمام ولا المؤتم السجود ) لأنه إذا سجد وحده كان مخالفا لإمامه وإن تابعه الإمام ينقلب الأصل تبعا ." (1/304)

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"قال : ( وسهو الإمام يوجب عليه وعلى المؤتم سجدتي السهو ) ؛ لأنه شريك الإمام تبع له وقد تقرر السبب الموجب في حق الأصل ، فيجب على التبع بوجوبه على الأصل ، وسهو المؤتم لا يوجب شيئا ، أما على الإمام فلا إشكال ؛ لأنه ليس بتبع للمؤتم ، وأما على المؤتم فلأنه لو سجد كان مخالفا لإمامه ، وقد قال عليه الصلاة والسلام : { فلا تختلفوا عليه } ." (2/145)

المحیط البرہانی میں ہے :

"وسهو المؤتم لا توجب السجدة، أما على الإمام فلا، صلاة الإمام غير متعلقة بصلاته صحة وفساداً، فكذا في حق تمكن النقصان، ولأنه ليس يتبع للمؤتم ليلزمه السجدة بحكم التبعية، وأما على المؤتم؛ لأنه لو وجب عليه السجدة صار مخالفاً لإمامه، وقد قال عليه السلام: «فلا تختلفوا عليه»". (2/255)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200452

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے