بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پچھلے سال دو لاکھ روپے کی زکاۃ ادا کرنے کے بعد اس سال مزید ایک لاکھ روپے ملکیت میں آنے کی صورت میں زکاۃ کا حکم


سوال

 میں نے پچھلے سال 2لاکھ کی زکاۃ ادا کی تھی، اب اس سال میرے پاس مزید ایک لاکھ جمع ہوا ہے ۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس 2 لاکھ پر بھی زکاۃ  نکالنا واجب ہے جس پر سال قبل میں نے ادا کی  ہے یا صرف ایک لاکھ پر ادا کرنا ہوگی؟

جواب

جمع شدہ رقم پر ایک مرتبہ زکاۃ ادا کرنے سے  ہمیشہ کے لیے زکاۃ ساقط نہیں ہوتی، بلکہ زکاۃ سالانہ طور پر لازم ہوتی ہے، یعنی اگر سال مکمل ہونے پر آدمی نصاب کا مالک ہو تو اس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے، خواہ اس کے پاس وہی رقم محفوظ ہو جو گزشتہ سال سے محفوظ رکھی ہے؛ لہٰذا پچھلے سال آپ نے جو دو لاکھ روپے کی زکاۃ ادا کی تھی وہ پچھلے سال کی زکاۃ تھی،   آئندہ سال پورا ہونے پر اگر آپ کی ملکیت میں ان دو لاکھ روپوں کے ساتھ مزید ایک لاکھ روپے جمع ہوکر تین لاکھ ہوگئے تو آپ پر اس سال تین لاکھ روپے کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200582

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے