بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

پرفیوم کے استعمال کا حکم


سوال

کیاایسے پرفیوم استعمال کرسکتے ہیں جن میں الکحل کی قلیل مقدارشامل ہو؟کیااسلام میں اس کی اجازت ہے؟

جواب

الکحل کئی قسم کاہوتاہے ،بعض پاک اوربعض ناپاک۔لہذالکحل اگر انگور یا کھجور سے کشید کرکے بنایا گیا ہو تو وہ ناپاک اور حرام ہے اوراس کااستعمال درست نہیں۔ اگر ان کے علاوہ کسی اور چیز سے بنایا گیا ہے تو اس کا اتنا استعمال جائز ہے جو نشے کی حد تک نہ پہنچتا ہو۔آج کل زیادہ تر الکحل انگور اور کھجور کے علاوہ اورچیزوں جیسے سبزیوں،گنے اور پٹرول وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، اس لیے ایسی خوشبو اور پرفیوم کا استعمال جائز ہے جس میں الکحل ملا ہوا ہو۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143705200035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے