بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ کے ذریعہ سے قرض اتارنے کا حکم


سوال

کیا پرائز بانڈ کے ذریعے میں کسی کا قرض اتار سکتا ہوں؟ جب کہ  میں نے بھی پرائز  بانڈ کسی سے ادھار  لیے ہوں؟

جواب

پرائز بانڈ میں حاصل ہونے والی انعامی رقم چوں کہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے؛ اس لیے پرائز بانڈ کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے۔  البتہ اگرکسی کو وراثت میں پرائز بانڈز ملیں یا لاعلمی میں حاصل کرلیے ہوں تو صرف اصل رقم سے استفادہ کی اجازت ہے، لہٰذا پرائز بانڈ  کی اصل رقم سے قرض اتارنا جائز ہے، لیکن پرائز بانڈ  کی انعامی رقم وصول کرنا اور اس انعامی رقم سے قرض اتارنا جائز نہیں ہے۔ انعامی رقم کا حکم یہ ہے کہ اگر وصول کرلی ہو تو اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200453

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے