بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

پانچ بہنوں کا حصہ


سوال

600000000 میں پانچ بہنوں کا حصہ کتنا ہوگا؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر والدین مرحومین کے ورثہ میں صرف پانچ بیٹیاں ہی ہیں، تو ترکہ کی مذکورہ رقم  یعنی ساٹھ  کروڑ  روپے (۶۰۰۰۰۰۰۰۰) کے پانچ برابر حصے کرنے کے بعد  ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا  یعنی ہر  ایک بیٹی کو بارہ بارہ کروڑ  دئیے جائیں گے۔

اگر مرحومین کے ذمے قرض ہو تو ترکے میں سے پہلے وہ ادا کیا جائے گا، اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو قرض کی ادائیگی کے بعد ایک تہائی ترکے میں سے وہ جائز وصیت بھی پوری کی جائے گی، اس کے بعد وراثت تقسیم ہوگی۔

مذکورہ تقسیم اس صورت میں ہے جب کہ والدین مرحومین کے انتقال کے وقت والدین میں سے ہر ایک کے والدین یا بھائی یا بھائی کی اولاد یا چچا یا چچا کی اولاد غرض عصبات میں سے کوئی نہ ہو،اور  اگر عصبات میں سے کوئی زندہ ہو تو ایسی صورت میں بتائی گئی مذکورہ تقسیم درست نہ ہوگی، بلکہ اس کا  حکم  مختلف ہوگا اس کی تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال فرمادیں۔

نیز اگر مذکورہ رقم وراثت میں نہیں ہے، بلکہ شرکتِ ملک ہے تو  ہر ایک بہن کا حصہ بقدرِ ملکیت ہوگا۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144111200209

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں