بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ٹوپی کے بغیر اور پلاسٹک کی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

۱)کیا بغیر ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنا مکروہ ہے؟

۲) مساجد میں پلاسٹک کی ٹوپیاں ہوتی ہیں ان سے نماز مکروہ ہوتی ہے؟

جواب

۱)رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے  احرام کی حالت کے سوا بغیر ٹوپی کے نماز ادا کرنا ثابت نہیں،  اس لیےکاہلی، سستی اور لاپرواہی کی بنا پر ٹوپی کے بغیر ننگے سر نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، البتہ اگر کبھی ٹوپی پاس نہ ہو اور فوری طور پر کسی جگہ سے میسر بھی نہ ہو سکتی ہو تو اس صورت میں ننگے سر نماز پڑھنے کی وجہ سے کراہت نہیں ہوگی۔

۲)نمازی بحالتِ نماز اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتاہے اور اللہ تعالیٰ کے در بار میں ایسے لباس میں حاضر ہونا ممنوع ہے جس لباس کو پہن کر معزز مجمع یا مجلس میں حاضر ہونے میں ناگواری ہوتی ہو یا اس کو باعثِ عیب و عار سمجھا جاتا ہو ، پلاسٹک اور چٹائی کی ٹوپی پہن کر معزز مجمع اور تقریب میں جانے کو معیوب  اور باعثِ عار  سمجھا جاتا ہے؛ اس لیے ایسی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن اس سے نماز مکروہ ہوجائے گی، مزید یہ کہ پلاسٹک وغیرہ کی ٹوپیاں استعمال کی وجہ سے میلی کچیلی بھی ہوجاتی ہیں، اس سے کراہت دوگنی ہوجائے گا، اس لیے ان ٹوپیوں میں نماز پڑھنے کے بجائے  کپڑے / جالی  کی صاف ستھری ٹوپی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{یَا بَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف:۳۱]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 641):

"(وصلاته حاسراً) أي كاشفاً (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر.

(قوله: للتكاسل) أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمراً مهماً في الصلاة فتركها لذلك، وهذا معنى قولهم تهاوناً بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها والاحتقار؛ لأنه كفر، شرح المنية. قال في الحلية: وأصل الكسل ترك العمل لعدم الإرادة، فلو لعدم القدرة فهو العجز".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

"(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها وإلا لا.

(قوله: وصلاته في ثياب بذلة) بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر، حلية. قال في البحر: وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولايذهب به إلى الأكابر، والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200516

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے