بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا سنت مؤکدہ یا غیر مؤکدہ ہے ؟


سوال

وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا سنت مؤکدہ یا غیر مؤکدہ ہے ؟

جواب

وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنتِ موکدہ ہے،  کتبِ  فقہ میں سنت موکدہ ہونے  کی صراحت موجود ہے،ملاحظہ فرمائیں:

درر الحكام شرح غرر الأحكام - (1 / 32):
"وَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ سُنَّتَانِ مُؤَكَّدَتَانِ يَأْثَمُ بِتَرْكِهِمَا عَلَى الصَّحِيحِ؛ لِأَنَّ الْمُؤَكَّدَ فِي قُوَّةِ الْوَاجِبِ، كَذَا فِي شَرْحِ الْمَقْدِسِيِّ". 

حاشية على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح - (1 / 41):
"(قوله: وهي المؤكدة إن كان النبي صلى الله عليه وسلم تركها أحياناً) كالأذان والإقامة والجماعة والسنن الرواتب والمضمضة والإستنشاق، ويلقبونها بسنة الهدى أي أخذها هدى وتركها ضلالة".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1 / 74):
"وفي السراج: أنهما سنتان مؤكدتان ، فإن ترك المضمضة والاستنشاق أثم على الصحيح ا هـ. ولايخفى أن الإثم منوط بترك الواجب، ويمكن الجواب مما قالوه من أن السنة المؤكدة في قوة الواجب ودليل سنيتهما المواظبة كما في الهداية وفي غاية البيان يعني مع الترك أحياناً، وإلا كانتا واجبتين وقد علمت مما قدمناه أن المواظبة من غير ترك لاتفيد الوجوب، وجميع من حكى وضوءه عليه السلام اثنان وعشرون صحابياً كلهم ذكروهما فيه كما في فتح القدير".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201143

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے