بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1441ھ- 07 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

وراثت کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا دوسرے ورثاء کا حصہ خریدنا


سوال

کیا کوئی وارث بقیہ وارثوں کا حصہ زمین تقسیم سے پہلے خرید سکتا ہے؟ اگر خرید سکتا ہے تو  آیا اپنا حصہ رقم منہا کرکے یا پھر کل قیمت کے ساتھ؟

جواب

کسی شخص کے انتقال کے بعد ا س کے کل متروکہ ترکہ میں اس کے تمام ورثاء  کا حق متعلق ہوجاتا ہے اور وہ سب  ترکہ میں  اپنے اپنے حصوں کے بقدر شریک ہوجاتے ہیں،  اگر کوئی وارث  دوسرے وارثوں کا حصہ تقسیم سے پہلے خریدنا چاہتا ہے تو  دیگر ورثاء کی رضامندی سے خرید سکتا ہے،  پھر متروکہ جائیداد میں جس قدر حصہ اس کا اپنا ہے وہ تو اس کی ملکیت ہے،اب  اسے دوسرے ورثاء کا حصہ خریدنے کے لیے اپنے حصہ کے علاوہ صرف  ان کے حصوں کے بقدر رقم ادا کرنی ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه)؛ لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن".

وفی الرد: "فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي" (4/300، کتاب الشرکۃ، ط؛ سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں