بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

وحی کے مختلف معنے اور صورتیں


سوال

وحی کا لفظ کن تین معنوں میں استعمال ہوا ہے؟ 

جواب

آپ کے سوال میں وحی کے معنی سے مراد اگر عربی زبان میں اس لفظ کے معنے ہیں تو وہ  تین سے زائد ہیں، مثلاً: آہستہ سے خبر دینا، لکھنا، لکھا ہوا، بھیجنا، الہام یعنی دل میں کوئی بات ڈالنا، حکم کرنا، اشارہ کرنا وغیرہ ۔ (فتح الباری حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:  ١/ ١٦)

اور اگر مراد وحی کی مختلف صورتیں ہیں تو بنیادی طور پر وحی کی درج ذیل تین صورتیں ہیں:

۱-  وحی قلبی: اللہ تعالی کسی فرشتے وغیرہ کے واسطے کے بغیر براہِ راست  کوئی بات، نبی کے دل میں ڈال دے۔ پھر اس کی دو صورتیں ہیں: (1) بیداری میں۔ (2) خواب میں۔

۲- کلامِ الہی: اللہ تعالی براہِ  راست نبی کو اپنی ہم کلامی کا شرف عطا فرماتا ہے، اس میں بھی فرشتے یا کسی کا واسطہ نہیں ہوتا،  نبی کو مخلوقات کی آواز سے جداگانہ آواز سنائی دیتی ہے،  جس کا ادراک عقل کے ذریعے ممکن نہیں۔ یہ وحی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے۔

۳-  وحی ملکی: اللہ تعالی کسی فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ پیغام پہنچاتا ہے۔ پھر اس کی تین صورتیں ہیں: (1)  کبھی فرشتہ نظر نہیں آتا، صرف اس کی آواز سنائی دیتی ہے۔ (2)  بعض مرتبہ کسی انسان کی شکل میں آتا ہے۔ (3) کبھی کبھی اپنی اصلی صورت میں بھی نظر آجاتا ہے۔  قرآنِ کریم کی درج ذیل آیت میں اِن ہی تین اقسام کی طرف اشارہ ہے: 

{وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ} [الشورى:٥١]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کچھ اور صورتیں بھی تھیں، تفصیل کے لیے دیکھیے : علوم القرآن از مفتی محمد تقی عثمانی (ص: ۳۱ تا ۳۹)  فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144104200496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں