بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

 واٹر پروف جورابوں پر مسح


سوال

 واٹر پروف جورابوں پر مسح کے سلسلے میں راہ نمائی درکار ہے!

جواب

واضح ر ہے کہ (ثخینین)وہ موٹے موزے یعنی جرابیں جن میں چمڑا بالکل استعمال نہ ہو سوت یا اون  وغیرہ  سےبنے ہوئے ہو ں  ایسے موزوں یعنی جرابوں پر مسح  کے جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط ہیں:

1ــ موزے ایسے ہو ں کہ  انہیں پہن کر (جوتے کے بغیر) مسلسل تین میل (بارہ ہزار قدم)سفر کرنا یا چلنا ممکن ہو۔

2ــ موزے اتنے موٹے ہوں کہ کسی چیز سے باندھے بغیر پنڈلیوں پر  ٹھہرےرہیں۔

3ــ موزے پانی کو جذب نہ کر تے ہویعنی اگر موزے پر پانی ڈالا جائے تو پانی کو اپنی طرف نہ کھینچتے ہوں یا پانی قدم کی طرف سرایت نہ کرتا ہو۔

4ــ  جو اس کے نیچے ہو وہ نظر نہ آتا ہو۔

اگر اس میں  سے ایک بھی شرط نہ پائی جائے تو مسح کرنا درست نہ ہوگا اور اگر  اس مسح سے نماز پڑھی گئی تو وضو کرکے دوبارہ لوٹانا ضروری ہوگا؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں آج کل مشہور واٹر پروف جراب میں ذکر کردہ شرائط  مندرجہ ذیل  وجوہات کی بنا  پرمفقود ہیں :

(الف)سہارے کے بغیر خود قرار نہیں پکڑتی یعنی اس میں  قرار کے لیے ربڑ کا استعمال کیا گیا ہے۔

(ب)پانی کو جذب کرتی ہے ۔

(ج) اس میں خاص مقدار(تین میل یعنی بارہ ہزار قدم) تک چلنے کی شرط بھی مفقود ہے۔

الغرض منسلکہ جراب پر مذکورہ   وجوہات کی  بنا  پر مسح کرنادرست نہیں، اگر اس جراب  پر مسح کرکے نماز ادا کی گئی تو اس نماز کو وضو کرکےدوبارہ لوٹانا لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو جوربيه) ولو من غزل أو شعر (الثخينين) بحيث يمشي فرسخا ويثبت على الساق ولا يرى ما تحته ولا يشف إلا أن ينفذ إلى الخف قدر الغرض.

(قوله: على الثخينين) أي اللذين ليسا مجلدين ولا منعلين نهر، وهذا التقييد مستفاد من عطف ما بعده عليه، وبه يعلم أنه نعت للجوربين فقط كما هو صريح عبارة الكنز. وأما شروط الخف فقد ذكرها أول الباب، ومثله الجرموق ولكونه من الجلد غالبا لم يقيده بالثخانة المفسرة بما ذكره الشارح؛ لأن الجلد الملبوس لا يكون إلا كذلك عادة (قوله: بحيث يمشي فرسخًا) أي فأكثر كما مر ... (قوله: بنفسه) أي من غير شد ط (قوله: ولايشف) بتشديد الفاء، من شف الثوب: رق حتى رأيت ما وراءه، من باب ضرب مغرب.

وفي بعض الكتب: ينشف بالنون قبل الشين، من نشف الثوب العرق كسمع ونصر شربه قاموس، والثاني أولى هنا لئلا يتكرر مع قوله تبعا للزيلعي ولا يرى ما تحته، لكن فسر في الخانية الأولى بأن لا يشف الجورب الماء إلى نفسه كالأديم والصرم، وفسر الثاني بأن لا يجاوز الماء إلى القدم وكأن تفسيره الأول مأخوذ من قولهم اشتف ما في الإناء شربه كله كما في القاموس، وعليه فلا تكرار فافهم".  (باب المسح علی الخفين، ج،1 ص،269، ط: سعيد)

وفیه أیضًا:

"تقدم أن الفرسخ ثلاثة أميال اثنا عشر ألف خطوة". (باب المسح علی 263، ط: سعيد)

تبيين الحقائقمیں ہے:

"قال رحمه الله: ( والجورب المجلد والمنعل والثخين ) أي يجوز المسح على الجورب إذا كان منعلا أو مجلدا أو ثخينا ، أما إذا كان مجلدا أو منعلا فإنه يمكن مواظبة المشي عليه والرخصة لأجله فصار كالخف والمجلد هو الذي وضع الجلد على أعلاه وأسفله والمنعل هو الذي وضع الجلد على أسفله كالنعل للقدم وقيل يكون إلى الكعب ، وأما الثخين فالمذكور قولهما وحده أن يستمسك على الساق من غير ربط وأن لايرى ما تحته". (باب المسح علی الخفین،ج:1،ص:153،ط:سعید)

المبسوط للسرخسیمیں ہے:

"قال ( وأما المسح على الجوربين فإن كانا ثخينين منعلين يجوز المسح عليهما ) لأن مواظبة المشي سفرا بهما ممكن وإن كانا رقيقين لا يجوز المسح عليهما ؛ لأنهما بمنزلة اللفافة".  (باب المسح علی الخفین،ج:1،ص:102،ط:دارالمعرفة)

الجوهر النیرةمیں ہے:

"( قوله : وقال أبو يوسف ومحمد يجوز المسح على الجوربين إذا كانا ثخينين لا يشفان ) حد الثخانة أن يقوم على الساق من غير أن يربط بشيء ، وقوله لا يشفان أي لا يرى ما تحتهما من بشرة الرجل من خلاله وينشفان خطأ ، قال في الذخيرة رجع أبو حنيفة إلى قولهما في آخر عمره قبل موته بسبع أيام ، وقيل بثلاثة أيام وعليه الفتوى". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200493

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے