بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

والد اور والدہ کے ماموں اور چچا سے پردہ کا حکم


سوال

امی کے ماموں اور چچا سے پردہ ہو گا؟ اور ابو کے ماموں اور چچا سے کیا پردہ ہوگا ؟

جواب

والدہ کا ماموں اور چچا (یعنی عورت کے نانا اور نانی کے حقیقی بہن بھائی )اسی طرح والد کے چچا اور ماموں(یعنی عورت کے دادا اور دادی کے حقیقی بہن بھائی )عورت کے محارم میں شامل ہیں، شرعاً بھانجی ،بھتیجی اور بھانجے اور بھیتجے کی اولاد محارم میں شامل ہیں۔  اس لیے والد اور والدہ کے حقیقی ماموں اور چچا سے شرعاً پردہ نہیں ہے۔ان محارم سے پردہ تونہیں ہے، البتہ موجودہ دور میں بلاضرورت اختلاط سے گریزکیا جاناچاہیےاوراگر کسی فتنہ کا اندیشہ ہوتو فتنہ کے ڈر سےبعض محارم سے پردہ بھی کیا جائے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"(الباب الثالث في بيان المحرمات) وهي تسعة أقسام: ( القسم الأول: المحرمات بالنسب) وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت، فهن محرمات نكاحاً ووطئاً ودواعيه على التأبيد، فالأمهات: أم الرجل وجداته من قبل أبيه وأمه وإن علون، وأما البنات فبنته الصلبية وبنات ابنه وبنته وإن سفلن، وأما الأخوات فالأخت لأب وأم والأخت لأم، وكذا بنات الأخ والأخت وإن سفلن، وأما العمات فثلاث: عمة لأب وأم وعمة لأب وعمة لأم، وكذا عمات أبيه وعمات أجداده وعمات أمه وعمات جداته وإن علون، وأما عمة العمة فإنه ينظر إن كانت العمة القربى عمة لأب وأم أو لأب فعمة العمة حرام، وإن كانت القربى عمة لأم فعمة العمة لاتحرم، وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته، وأما خالة الخالة فإن كانت الخالة القربى خالة لأب وأم أو لأم فخالتها تحرم عليه، وإن كانت القربى خالة لأب فخالتها لاتحرم عليه، هكذا في محيط السرخسي". (6/454) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200880

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے