بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

والدین کی اجازت کے بغیر اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنا


سوال

 گھر والوں سے چھپ کر اہل اللّٰہ کی صحبت اختیارکرنا جائز ہے؟اُس صورت میں جب گھر والے اولیاء کی صحبت کے فوائد کا ادراک نہ ہو اور وہ اسے اختیار کرنے سے روکیں۔

جواب

متبع قرآن وسنت  اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنا مستحب امر ہے،بلا وجہ والدین کو منع نہیں کرنا چاہیے ،کیونکہ اولاد کی اچھی صحبت کا فائدہ والدین کو بھی ہوگا، البتہ اگر والدین کو خدمت یا کسی کام میں تعاون کی ضرورت ہو تو والدین کی رعایت رکھی جائے اوران کی اجازت کے بغیر نہ جایا جائے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے :

''وقال محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه وماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة .''فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے