بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے ساتھ بازار آتے جاتے وقت نماز کی جماعت نکل جانے سے گناہ ملے گا یا نہیں؟


سوال

اکثر والدہ کے ساتھ بازار وغیرہ جانا ہوتا ہے، راستے میں اکثر نماز کا وقت آ جاتا ہے، لیکن کبھی ٹریفک میں یا رکشہ میں یا راستہ میں ہونے کی وجہ سے جماعت نہیں ملتی  تو ایسی صورت میں جماعت چھوٹنے میں گناہ ہے یا گنجائش ہے؟

جواب

نماز باجماعت پڑھنے کی تاکید احادیثِ  مبارکہ میں بہت زیادہ آئی ہے، اسی طرح بلا عذر جماعت چھوڑنے پر بہت سی وعیدات بھی وارد ہوئی ہیں، اس لیے حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ کسی بھی نماز کی جماعت نہ چھوٹنے پائے، آپ کو چاہیے کہ بازار جانے اور واپسی کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کریں جس کے درمیان میں جماعت کا وقت نہ آرہا ہو۔ یا بازار میں نماز کا وقت ہوجائے تو سواری پر سوار ہونے کے بجائے بازار کی مسجد میں جماعت سے نماز ادا کرنے کی کوشش کیجیے۔ 

  پھر بھی اگر اتفاقاً کسی شدید یا غیر اختیاری عذر کی وجہ سے راستے میں جماعت کا وقت ہوجائے تو کوشش کریں کہ رکشے والے کو بھی ترغیب دے کر نماز باجماعت کے لیے تیار کرلیں کہ وہ رکشہ روک کر آپ کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھ لے یا کم از کم آپ کو جماعت سے نماز پڑھنے کا موقع دے دے، لیکن اگر کبھی ایسا ہو کہ انتہائی کوشش کے باوجود راستے میں جماعت سے نماز پڑھنے کا موقع نہ ملے تو امید ہے کہ کوشش کرنے کے باوجود جماعت نہ ملنے کی وجہ سے آپ گناہ گار نہیں ہوں گے،  لیکن اس حالت میں بھی دل میں جماعت چھوٹنے کا افسوس رہے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتے رہیے۔ تاہم اس کی عادت ہرگز نہ بنائیے، نیز جماعت کے ترک کو معمولی نہ سمجھیے، جماعت سے نماز ادا کرنا عاقل بالغ مرد کے لیے واجب کے قریب درجہ رکھتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200571

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے